نبی کریم ﷺنے خانہ کعبہ کی خدمت کا فریضہ ”بنو شیبہ“سے تعلق رکھنے والے عثمان بن ابی طلحہ ؓکے سپرد کیا

ریاض (ڈیلی پاکستان آن لائن )دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے خانہ کعبہ سے زیادہ مقدس جگہ کوئی اور نہیں،

دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے خانہ کعبہ سے زیادہ مقدس جگہ کوئی اور نہیں، خانہ کعبہ دنیا میں موجود تمام مسلمانوں کیلئے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ہرسال لاکھوں کروڑوں افراد حج و عمرہ کی ادائیگی کیلئے بیت اللہ کا رخ کرتے ہیں، خانہ کعبہ کی خدمت ایک اہم فریضہ ہے جو خوش قسمت لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔

خانہ کعبہ کی خدمت کا فریضہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر سنہ 8 ہجری میں ”بنو شیبہ“ سے تعلق رکھنے والے عثمان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ کو چابی دے کران کے سپرد کیا، اس کے ساتھ ہی اللہ کے نبی نے اعلان فرمایا کہ ”یہ اب ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بنو شیبہ کے پاس ہی رہے گی اور اس کو ظالم شخص کے سوا کوئی نہ چھینے گا۔“ اس دن سے لے کر آج تک ”بنو شیبہ“ کے فرزندان ہی کو کعبہ کا ”کلید بردار“ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
تاہم حرمین شریفین کے امور کے محقق محی الدین الہاشمی کے مطابق تاریخی طور پر خانہ کعبہ کی خدمت کا آغاز حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے زمانے سے شروع ہوا جب انہوں نے بیت اللہ کی بنیادیں قائم کیں۔ ان کے امور میں بیت اللہ کو کھولنا، بند کرنا، صاف کرنا، غسل دینا، غلاف چڑھانا، اور غلاف پھٹ جانے یا ادھڑ جانے کی صورت میں اس کو پھر سے درست کرنا اور بیت اللہ کی نگرانی کرنا شامل تھا۔

الہاشمی کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو کعبے کی خدمت گاری کے علاوہ بیت اللہ کی زیارت کرنے والوں کو پانی پلانے کی ذمہ داری بھی سونپی ہوئی تھی۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی وفات کے بعد ”جرہم قبیلے“ نے ان کی اولاد سے یہ ذمہ داری چھین لی۔ کچھ عرصے بعد ”خزاعہ قبیلے“ نے ”جرہم قبیلے“ سے کعبے کی خدمت گاری لے لی، یہاں تک کہ رسول اللہ کے جد امجد قصی بن کلاب نے اسے واپس لے لیا کیونکہ وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔

 

بعد ازاں یہ ذمہ داری قصی بن کلاب کے بڑے بیٹے عبدالدار کے حوالے کردی اور پھر یہ ذمہ داری موروثی طور پر چلتے ہوئے عثمان بن طلحہ تک پہنچ گئی جو رسول اللہ کے ہم عصر تھے۔ عثمان بن طلحہ کے مطابق دور جاہلیت میں وہ پیر اور جمعرات کے روز خانہ کعبہ کا دروازہ کھولا کرتے تھے ایک روز رسول اللہ لوگوں کے ساتھ کعبے کے اندر داخل ہوئے تو انہوں نے اللہ کے نبی کو زبردستی باہر جانے پر مجبور کردیا۔ اس وقت رسول اللہ نے فرمایا ”اے عثمان ایک دن تو اس چابی کو میرے ہاتھ میں دیکھے گا۔


اس کے بعد سنہ 8 ہجری میں فتح مکہ کے روز رسول اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو عثمان بن طلحہ کے پاس بھیجا تاکہ ان سے بیت اللہ کی چابی لے لیں تو انہوں نے ناپسندیدگی سے چابی حضرت علی کے حوالے کردی۔ اللہ کے نبی نے خانہ کعبہ کو کھولا اور تمام بتوں کو توڑ ڈالا، پھر اسے آب زم زم سے دھویا اور دو رکعت نماز پڑھی، یہیں سے غسل کعبہ کی سنت کا آغاز ہوا۔

اس موقع پر صورت النساءکی 58 ویں آیت نازل ہوئی جس کا ترجمہ درجِ ذیل ہے:

”اللہ حکم دیتا ہے کہ امانتیں امانت والوں کو لوٹادو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو، بے شک اللہ تمہیں نہایت اچھی نصیحت کرتا ہے، بے شک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔


رسول اللہ نے اس آیت کو دوہراتے ہوئے عثمان بن طلحہ کو چابی دیتے ہوئے فرمایا: ”یہ لو اپنی چابی، اس کو ہمیشہ کے واسطے لے لواور کسی ظالم کے سوا یہ چابی تم سے کوئی نہیں چھینے گا۔“ بعد ازاں عثمان بن طلحہ نے کلمہ طیبہ پڑھا اور پھر اپنے بعد والی شخصیت کو چابی دے کر خود اللہ کے نبی کے ساتھ مدینہ چلے آئے۔

محی الدین الہاشمی کے مطابق بیت اللہ کی خدمت گزاری آج تک ”بنو شیبہ“ خاندان کے پاس ہے۔ حالیہ عرصے میں خانہ کعبہ کے خدمت گزار کی ذمہ داری اس کا قفل کھولنے اوربند کرنے تک محدود ہوگئی ہے۔ ہرسال ذوالحجہ کے آغاز میں بیت اللہ کا نیا غلاف ”کسوہ“ کعبے کے سینئر کلید بردار کے حوالے کیا جاتا ہے تاکہ وقوف عرفہ کے روز بیت اللہ پر ڈالا جاسکے۔ اس موقع پر مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے امور کے سربراہ جناب شیخ ڈاکٹر عبدالرحمان السدیس، کمپلیکس کے ڈائریکٹر جناب محمد بن عبداللہ اور خدمت گاروں اور ذمہ داروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*